قانونی حدود میں کاروبار کرنے والے تاجروں کے حقوق، کاروباری مفادات اور عزتِ نفس کا تحفظ یقینی بنایا جائے: صدر سرحد چیمبر
غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں، تاہم جائز کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے سے گریز کیا جائے
انتظامیہ اور سرحد چیمبر کی باہمی مشاورت سے ایس او پیز وضع کرنے پر زور
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک عمران اسحق نے پشاور شہر میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف جاری اقدامات کے حوالے سے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی انتظامی کارروائی سے قبل سرحد چیمبر کے ذریعے متعلقہ تاجر برادری، بازار ایسوسی ایشنز اور دیگر کاروباری اسٹیک ہولڈرز کو باقاعدہ اعتماد میں لیا جائے تاکہ قانونی حدود میں کام کرنے والے تاجروں کے حقوق اور کاروباری مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور انہیں غیر ضروری مشکلات اور مالی نقصانات سے بچایا جاسکے۔صدر سرحد چیمبر نے گذشتہ رو زبیا ن میں واضح کیا کہ چیمبر غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے، شہری نظم و ضبط کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومتی اور انتظامی اقدامات کی حمایت کرتا ہے، تاہم قانونی حدود میں کاروبار کرنے والے تاجروں کو غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے والے عناصر سے الگ تصور کیا جانا چاہیے۔ صدر ملک عمر ان اسحق نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران قانونی طور پر قائم دکانوں، تجارتی مراکز اور کاروباری اداروں کی معمول کی سرگرمیوں میں بلاجواز خلل پیدا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان کی املاک، سامان یا کاروباری مفادات کو نقصان پہنچنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری برادری کا ایک اہم نمائندہ ادارہ ہے، لہٰذا تاجروں سے متعلق پالیسیوں، انتظامی فیصلوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے چیمبر کے پلیٹ فارم سے مؤثر اور بامعنی مشاورت کی جائے تاکہ کاروباری حلقوں کے تحفظات، زمینی حقائق اور عملی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔صدر ملک عمر ان اسحق نے اس سلسلے میں واضح، شفاف اور یکساں ایس او پیز (SOPs) وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی سے قبل متعلقہ تاجروں کو پیشگی اطلاع دینے، قانونی کاروباری حدود کی نشاندہی اور تجارتی املاک و سامان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔صدر سرحد چیمبر نے کہا کہ انتظامی کارروائیوں کے دوران تاجروں کی عزتِ نفس، کاروباری وقار اور قانونی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے دکانوں کے سامنے قائم غیر قانونی ریڑھیوں، رکشوں اور دیگر رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر اور منصفانہ اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ شہری آمدورفت میں بہتری کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر کاروبار کرنے والے تاجروں کو بھی سہولت میسر آسکے۔ملک عمران اسحاق نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی کاروباری برادری پہلے ہی سرحدی اور تجارتی راہداریوں کی بندش، معاشی جمود اور کاروباری لاگت میں اضافے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو کاروبار دوست طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے تجارتی و صنعتی سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔صدر سرحد چیمبر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چیمبر قانون کی بالادستی، شہری نظم و ضبط اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کیلئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ سرحد چیمبر کے ساتھ قریبی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کو شفاف، منظم اور کاروبار دوست بنائے گی تاکہ قانون کی عملداری کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے۔
مقتصد احسن،
سیکرٹری جنر ل،